Editing
Luke 7 Urdu
Jump to navigation
Jump to search
Warning:
You are not logged in. Your IP address will be publicly visible if you make any edits. If you
log in
or
create an account
, your edits will be attributed to your username, along with other benefits.
Anti-spam check. Do
not
fill this in!
{{Books of the New Testament Urdu}} <big><div style="text-align: right;"><span style="font-family:Jameel Noori Nastaleeq;"> ۱ جب وہ لوگوں کو اپنی سب باتیں سُنا چُکا تو کَفرنحُؔوم میں آیا۔ ۲ اور کِسی صُوبہ دار کا نَوکر جو اُس کو عزِیز تھا بِیماری سے مَرنے کو تھا۔ ۳ اُس نے یِسُؔوع کی خبر سُنکر یہُودِیوں کے کئی بزُرگوں کو اُس کے پاس بھیجا اور اُس سے درخواست کی کہ آ کر میرے نَوکر کو اچھّا کر۔ ۴ اور اُنہوں نے یِسُؔوع کے پاس آ کے، اُس کی بڑی مِنّت کرکے کہنے لگے کہ وہ اِس لائِق ہے کہ تُو اُس کی خاطِر یہ کرے۔ ۵ کیونکہ وہ ہماری قَوم سے مُحبّت رکھتا ہے اور ہمارے لئے ایک عِبادت خانہ بنایا ہے۔ ۶ تب یِسُؔوع اُن کے ساتھ چلا مگر جب وہ اُس کے گھر کے قرِیب پُہنچا تو صُوبہ دار نے بعض دوستوں کی معرفت اُسے یہ کہلا بھیجا کہ اَے خُداوند تکلِیف نہ کر کیونکہ مَیں اِس لائِق نہیں کہ تُو میری چھت کے نِیچے آئے۔ ۷ اِسی سبب سے مَیں نے اپنے آپ کو بھی تیرے پاس آنے کے لائِق نہ سمجھا بلکہ زُبان سے کہہ دے تو میرا خادِم شِفا پائے گا۔ ۸ کیونکہ مَیں بھی دُوسرے کے اِختیار میں ہُوں اور سِپاہی میرے ماتحت ہیں اور جب ایک سے کہتا ہُوں جا تو وہ جاتا ہے اور دُوسرے سے آ تو وہ آتا ہے اور اپنے نَوکر سے کہ یہ کر تو وہ کرتا ہے۔ ۹ یِسُؔوع نے یہ سُنکر اُس پر تعجُّب کِیا اور پھِر کر اُس بھِیڑ سے جو اُس کے پِیچھے آتی تھی کہا مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ مَیں نے اَیسا بڑا اِیمان اِسرائؔیل میں بھی نہیں پایا۔ ۱۰ اور وہ جو بھیجے گئے تھے جب گھر میں پھر آئے تو اُس نَوکر کو جو بِیمار تھا تندرُست پایا۔ ۱۱ اور دوسرے دِن اَیسا ہُئوا کہ وہ نائِیؔن نام ایک شہر کو گیا اور اُس کے شاگِرد اور بُہت سے لوگ اُس کے ہمراہ تھے۔ ۱۲ اَب جب وہ اُس شہر کے پھاٹک کے نزدِیک پُہنچا تو دیکھو ایک مُردہ کو باہر لِئے جاتے تھے۔ وہ اپنی ماں کا اِکلَوتا بیٹا تھا اور وہ بیوہ تھی اور شہر کے بُہتیرے لوگ اُس کے ساتھ تھے۔ ۱۳ اور اُسے دیکھ کے خُداوند کو اُس پر رحم آیا، اور اُسے کہا مت رو۔ ۱۴ اور اُس نے پاس آ کر جِنازہ کو چُھؤا اور اُٹھانے والے کھڑے ہو گئے۔ تب اُس نے کہا اَے جوان مَیں تُجھ سے کہتا ہُوں اُٹھ۔ ۱۵ اور وہ مُردہ اُٹھ بَیٹھا اور بولنے لگا اور اُس نے اُسے اُس کی ماں کو سَونپ دِیا۔ ۱۶ اور سب پر دہشت چھا گئی اور وہ خُدا کی تمجِید کرکے کہنے لگے کہ ایک بڑا نبی ہم میں برپا ہُئوا ہے اور خُدا نے اپنی اُمّت پر توجُّہ کی ہے۔ ۱۷ اور اُس کی نِسبت یہ خبر سارے یہُؔودیہ اور تمام گِردنواح کے مُلک میں پَھیلی۔ ۱۸ اور یُوحنّؔا کو اُس کے شاگِردوں نے اِن سب باتوں کی خبر دی۔ ۱۹ اور یُوحنّؔا نے اپنے شاگِردوں میں سے دو کو بُلا کر یِسُؔوع کے پاس یہ پُوچھنے کو بھیجا کہ کیا جو آنے والا تھا تُو ہی ہے؟ یا ہم دُوسرے کی راہ دیکھیں؟۔ ۲۰ اُن مردوں نے اُس کے پاس آ کر کہا کہ یُوحنّؔا بپِتسمہ دینے والے نے ہمیں تیرے پاس یہ پُوچھنے کو بھیجا ہے کہ کیا جو آنے والا تھا تُو ہی ہے؟ یا ہم دُوسرے کی راہ دیکھیں؟۔ ۲۱ اُسی گھڑی اُس نے بُہتوں کو بِیمارِیوں اور آفتوں اور بُری رُوحوں سے نجات بخشی اور بُہت سے اندھوں کو بِینائی عطا کی۔ ۲۲ اور یِسُؔوع نے جواب میں اُن سے کہا کہ جو کُچھ تُم نے دیکھا اور سُنا ہے جا کر یُوحنّؔا سے بیان کر دو کہ اندھے دیکھتے ہیں۔ لنگڑے چلتے پھِرتے ہیں۔ کوڑھی پاک صاف کِئے جاتے ہیں۔ بہرے سُنتے ہیں۔ مُردے زِندہ کِئے جاتے ہیں۔ غرِیبوں کو خُوشخبری سُنائی جاتی ہے۔ ۲۳ اور مُبارک ہے وہ جو میرے سبب سے ٹھوکر نہ کھائے۔ ۲۴ جب یُوحنّؔا کے قاصِد چلے گئے تو یِسُؔوع یُوحنّؔا کے حق میں لوگوں سے کہنے لگا کہ تُم بیابان میں کیا دیکھنے گئے تھے؟ کیا ہوا سے ہِلتے ہُوئے سرکنڈے کو؟۔ ۲۵ تو پھِر کیا دیکھنے گئے تھے؟ کیا مہِین کپڑے پہنے ہُوئے شخص کو؟ دیکھو جو چمکدار پوشاک پہنتے اور عَیش و عِشرت میں رہتے ہیں وہ بادشاہی محلّوں میں ہوتے ہیں۔ ۲۶ تو پھِر تُم کیا دیکھنے گئے تھے؟ کیا ایک نبی؟ ہاں مَیں تُم سے کہتا ہُوں بلکہ نبی سے بڑے کو۔ ۲۷ یہ وُہی ہے جِسکی بابت لِکھا ہے کہ دیکھ مَیں اپنا پَیغمبر تیرے آگے بھیجتا ہُوں جو تیری راہ تیرے آگے تیّار کرے گا۔ ۲۸ کیونکہ مَیں تُم سے کہتا ہُوں جو عَورتوں سے پَیدا ہُوئے ہیں اُن میں یُوحنّؔا بپِتسمہ دینے والے سے کوئی نبی بڑا نہیں لیکن جو خُدا کی بادشاہی میں چھوٹا ہے وہ اُس سے بڑا ہے۔ ۲۹ اور سب لوگوں نے سُن کے، اور محصُول لینے والوں نے خُدا کو سچ مان کے، یُوحنّؔا سے بپِتسمہ لِیا۔ ۳۰ مگر فریسیوں اور شرع کے عالِموں نے اُس سے بپِتسمہ نہ لے کر خُدا کے اِرادہ کو اپنی نِسبت باطِل کر دِیا۔ ۳۱ اور خُداوند نے کہا، پس اِس زمانہ کے آدمِیوں کو مَیں کِس سے تشبِیہ دُوں اور وہ کِس کی مانِند ہیں؟۔ ۳۲ وہ اُن لڑکوں کی مانِند ہیں جو بازار میں بَیٹھے ہُوئے ایک دُوسرے کو پُکار کر کہتے ہیں کہ ہم نے تُمہارے لِئے بانسلی بجائی اور تُم نہ ناچے۔ ہم نے ماتم کِیا اور تُم نہ روئے۔ ۳۳ کیونکہ یُوحنّؔا بپِتسمہ دینے والا نہ تو روٹی کھاتا ہوا آیا نہ مَے پِیتا ہوا اور تُم کہتے ہو کہ اُس میں ایک شیطان ہے۔ ۳۴ اِبنِ آدم کھاتا پِیتا آیا اور تُم کہتے ہو کہ دیکھو ایک بڑا کھاؤ اور شرابی آدمی محصُول لینے والوں اور گُنہگاروں کا یار۔ ۳۵ لیکن حِکمت اپنے سب لڑکوں کی طرف سے راست ثابِت ہُوئی۔ ۳۶ پھِر کِسی فریسی نے اُس سے درخواست کی کہ میرے ساتھ کھانا کھا۔ پس وہ اُس فریسی کے گھر جا کر کھانا کھانے بَیٹھا۔ ۳۷ اور دیکھو ایک بدچلن عَورت جو اُس شہر کی تھی۔ یہ جان کر کہ وہ اُس فریسی کے گھر میں کھانا کھانے بَیٹھا ہے سنگِ مرمر کے عِطر دان میں عِطر لائی۔ ۳۸ اور وہ پِیچھے پاؤں کے پاس کھڑی تھی، اور رو رو کے، آنسُوؤں سے اُس کے پاؤں دھونے لگی، اور اپنے سر کے بالوں سے اُن کو پونچھا اور اُس کے پاؤں بُہت چُومے اور اُن پر عِطر ڈالا۔ ۳۹ اُس کی دعوت کرنے والا فریسی یہ دیکھ کر اپنے جی میں کہنے لگا کہ اگر یہ شخص نبی ہوتا تو جانتا کہ جو اُسے چُھوتی ہے وہ کَون اور کَیسی عَورت ہے کیونکہ بدچلن ہے۔ ۴۰ یِسُؔوع نے جواب میں اُس سے کہا اَے شمعُؔون مُجھے تُجھ سے کُچھ کہنا ہے۔ اُس نے کہا اَے اُستاد کہہ۔ ۴۱ کِسی ساہُوکار کے دو قرضدار تھے۔ ایک پانچسَو دِینار کا دُوسرا پچاس کا۔ ۴۲ جب اُن کے پاس ادا کرنے کو کُچھ نہ رہا تو اُس نے دونوں کو بخش دِیا۔ پس اُن میں سے کَون اُس سے زِیادہ مُحبّت رکھّیگا؟۔ ۴۳ شمعُؔون نے جواب میں اُس سے کہا میری دانست میں وہ جِسے اُس نے زِیادہ بخشا۔ تب اُس نے اُس سے کہا تُو نے ٹھِیک فَیصلہ کِیا۔ ۴۴ اور اُس عَورت کی طرف پھِر کر اُس نے شمعُؔون سے کہا کیا تُو اِس عَورت کو دیکھتا ہے؟ مَیں تیرے گھر مَیں آیا۔ تُو نے میرے پاؤں دھونے کو پانی نہ دِیا مگر اِس نے میرے پاؤں آنسُوؤں سے بھگو دِئے اور اپنے بالوں سے پونچھے ۴۵ تُو نے مُجھ کو بوسہ نہ دِیا مگر اِس نے جب سے مَیں آیا ہُوں میرے پاؤں چُومنا نہ چھوڑا۔ ۴۶ تُو نے میرے سر پر تیل نہ ڈالا مگر اِس نے میرے پاؤں پر عِطر ڈالا ہے۔ ۴۷ اِسی لِئے مَیں تُجھ سے کہتا ہُوں کہ اِس کے گُناہ جو بُہت تھے مُعاف ہُوئے کیونکہ اِس نے بُہت مُحبّت کی مگر جِس کے تھوڑے گُناہ مُعاف ہُوئے وہ تھوڑی مُحبّت کرتا ہے۔ ۴۸ اور اُس عَورت سے کہا تیرے گُناہ مُعاف ہُوئے۔ ۴۹ تب وہ جو اُس کے ساتھ کھانا کھانے بَیٹھے تھے اپنے جی میں کہنے لگے کہ یہ کَون ہے جو گُناہ بھی مُعاف کرتا ہے؟۔ ۵۰ مگر اُس نے عَورت سے کہا تیرے اِیمان نے تُجھے بچا لِیا ہے۔ سلامت چلی جا۔ </span></div></big> {{Donate}}
Summary:
Please note that all contributions to Textus Receptus may be edited, altered, or removed by other contributors. If you do not want your writing to be edited mercilessly, then do not submit it here.
You are also promising us that you wrote this yourself, or copied it from a public domain or similar free resource (see
Textus Receptus:Copyrights
for details).
Do not submit copyrighted work without permission!
Cancel
Editing help
(opens in new window)
Pages included on this page:
Template:Books of the New Testament
(
view source
) (semi-protected)
Template:Books of the New Testament Urdu
(
edit
)
Template:Books of the Old Testament
(
view source
) (semi-protected)
Template:Donate
(
edit
)
Template:New Testament lectionaries
(
view source
) (semi-protected)
Template:New Testament minuscules
(
view source
) (semi-protected)
Template:New Testament papyri
(
edit
)
Template:New Testament uncials
(
edit
)
Template:Nowrap begin
(
edit
)
Template:Revelation 16.5
(
edit
)
Template:·w
(
edit
)
Navigation menu
Personal tools
Not logged in
Talk
Contributions
Create account
Log in
Namespaces
Page
Discussion
English
Views
Read
Edit
View history
More
Search
Navigation
Main page
Recent changes
Random page
Help about MediaWiki
Special pages
Tools
What links here
Related changes
Page information