Revelation 21 Urdu

From Textus Receptus

Revision as of 08:43, 5 September 2016 by Nick (Talk | contribs)
Jump to: navigation, search

۱

-پھِر مَیں نے ایک نئے آسمان اور نئی زمِین کو دیکھا کیونکہ پہلا آسمان اور پہلی زمِین جاتی رہی تھی اور سمُندر بھی نہ رہا

۲

-اور مُجھ یُوحؔنّا نے شہرِ مُقدّس نئے یرُوشلِیمؔ کو آسمان پر سے خُدا کے پاس سے اُترتے دیکھا اور وہ اُس دُلہن کی مانِند آراستہ تھا جِس نے اپنے شَوہر کے لِئے سِنگار کِیا ہو

۳

پھِر مَیں نے تخت میں سے کِسی کو بلند آواز سے یہ کہتے سُنا کہ دیکھ خُدا کا خَیمہ آدمِیوں کے درمیان ہے اور وہ اُن کے ساتھ سُکُونت کرے گا اور وہ اُس کے لوگ ہوں گے اور خُدا آپ اُن کے ساتھ رہے گا اور اُن کا خُدا ہو گا

۴

-اور خُدا اُن کی آنکھوں کے سب آنسُو پونچھ دے گا۔ اِس کے بعد نہ مَوت رہے گی اور نہ ماتم رہے گا۔ نہ آہ و نالہ نہ درد۔ پہلی چِیزیں جاتی رہیِں

۵

-اور جو تخت پر بَیٹھا ہُؤا تھا اُس نے کہا دیکھ مَیں سب چِیزوں کو نیا بنا دیتا ہُوں۔ پھِر اُس نے مُجھ سے کہا لِکھ لے کیونکہ یہ باتیں سچ اور برحق ہیں

۶

-پھِر اُس نے مُجھ سے کہا یہ باتیں پُوری ہو گئِیں۔ مَیں الفا اور اومیگا یعنی اِبتدا اور اِنتہا ہُوں۔ مَیں پیاسے کو آبِ حیات کے چشمہ سے مُفت پِلاؤں گا

۷

-جو غالِب آئے وُہی اِن چِیزوں کا وارِث ہوگا اور مَیں اُس کا خُدا ہُوں گا اور وہ میرا بیٹا ہو گا

۸

مگر بُزدِلوں اور بے اِیمانوں اور گھِنونے لوگوں اور خُونِیوں اور حرامکاروں اور جادُوگروں اور بُت پرستوں اور سب جُھوٹوں کا حِصّہ آگ اور گندھک سے جلنے والی جھِیل میں ہوگا۔ یہ دُوسری مَوت ہے

۹

پھِر اُن سات فرِشتوں میں سے جِن کے پاس سات پیالے تھے اور وہ پِچھلی سات آفتوں سے بھرے ہُوئے تھے ایک نے آکر مُجھ سے کہا اِدھر آ۔ مَیں تُجھے دُلہن یعنی برّہ کی بِیوی دِکھاؤں

۱۰

-اور وہ مُجھے رُوح میں ایک بڑے اور اُونچے پہاڑ پر لے گیا اور اُس بُزُرگ شہرِ مُقدّس یرُوشلِیم کو آسمان پر سے خُدا کے پاس سے اُترتے دِکھایا

۱۱

-اُس میں خُدا کا جلال تھا اور اُس کے چمک نِہایت قِیمتی پتھّر یعنی اُس یشب کی سی تھی جو بَلّور کی طرح شفّاف ہو

۱۲

-اور اُس کی شہرِ پناہ بڑی اور بُلند تھی اور اُس کے بارہ دروازے اور دروازوں پر بارہ فرِشتے تھے اور اُن پر بنی اِسرائیل کے بارہ قبِیلوں کے نام لِکھے ہُوئے تھے

۱۳

-تِین دروازے مشرِق کی طرف تھے۔ تِین دروازے شمال کی طرف۔ تِین دروازے جنُوب کی طرف اور تِین دروازے مغرِب کی طرف

۱۴

-اور اُس شہر کی شہرِ پناہ کی بارہ بُنیادیں تھِیں اور اُن پر برّہ کے بارہ رسُولوں کے بارہ نام لِکھے تھے

۱۵

-اور جو مُجھ سے کہہ رہا تھا اُس کے پاس شہر اور اُس کے دروازوں اور اُس کی شہر پناہ کے ناپنے کے لِئے ایک پَیمایش کا آلہ یعنی سونے کا گز تھا

۱۶

اور وہ شہر چَوکور واقع ہُؤا تھا اور اُس کی لمبائی چَوڑائی کے برابر تھی۔ اُس نے اُس شہر کو اُس گز سے ناپا تو ہزار فرلانگ نِکلا۔ اُس کی لمبائی اور چَوڑائی اور اُونچائی برابر تھی

۱۷

-اور اُس نے اُس کی شہر پناہ کو آدمی کی یعنی فرِشتہ کی پَیمایش کے مُطابِق ناپا تو ایک سَو چَوالِیس ہاتھ نِکلی

۱۸

-اور اُس کی شہر پناہ کی تعمِیر یشب کی تھی اور شہر اَیسے خالِص سونے کا تھا جو شفّاف شِیشہ کی مانِند ہو

۱۹

-اور اُس شہر کی شہر پناہ کی بُنیادیں ہر طرح کے جواہِر سے آراستہ تھِیں۔ پہلی بُنیاد یشب کی تھی۔ دُوسری نِیلم کی تھی۔ تِیسری شب چِراغ کی۔ چَوتھی زُمُرّد کی

۲۰

-پانچویں عقِیق کی۔ چھٹی لَعل کی۔ ساتویں سُنہرے پتّھر کی۔ آٹھوِیں فِیروزہ کی۔ نوِیں زبرجد کی۔ دسوِیں یمنی کی۔ گیارھوِیں سنگِ سُنُبلی کی اور بارھوِیں یاقُوّت کی

۲۱

-اور بارہ دروازے بارہ موتیوں کے تھے۔ ہر دروازہ ایک موتی کا تھا اور شہر کی سڑک شفّاف شِیشہ کی مانِند خالِص سونے کی تھی

۲۲

-اور مَیں نے اُس میں کوئی مَقدِس نہ دیکھا اِس لِئے کہ خُداوند خُدا قادرِ مُطِلق اور برّہ اُس کا مَقدِس ہیں

۲۳

-اور اُس شہر میں سُورج یا چاند کی روشنی کی کُچھ حاجت نہیں کیونکہ خُدا کے جلال نے اُسے رَوشن کر رکھّا ہے اور برّہ اُس کا چراغ ہے

۲۴

-اور سب قَومیں جہنوں نے نجات پائی اُس کی رَوشنی میں چلیں پھِریں گی اور زمِین کے بادشاہ اپنی شان و شَوکت کا سامان اُس میں لائیں گے

۲۵

-(اور اُس کے دروازے دِن کو ہرگز بند نہ ہوں گے (اور رات وہاں نہ ہوگی

۲۶

-اور لوگ قَوموں کی شان و شَوکت اور عِزّت کا سامان اُس میں لائیں گے

۲۷

اور اُس میں کوئی ناپاک چِیز یا کوئی شخص جو گھِنَونے کام کرتا یا جُھوٹی باتیں گھڑتا ہے ہرگز داخِل نہ ہوگا مگر وُہی جِن کے نام برّہ کی کِتابِ حیات میں لِکھے ہُوئے ہیں
Personal tools